کسان اور بادشاہ"
ایک دن کی بات ہے، ایک خوبصورت ریاست میں ایک زرعی کسان رہتا تھا جس کا نام علی تھا. علی ایک سادہ لیکن زرعی کاموں میں ماہر کسان تھے، اور ان کے خوابوں کا رنگ اس کے زمینوں کو سبز بناتا تھا۔ ان کے پاس آپکا بھر کے پیچھے بڑی زمین تھی، اور وہ اپنے کام کی پسار ہر موسم بڑھتے جا رہے تھے۔
اس ریاست کا بادشاہ، بادشاہ عبداللہ، دنیا کے سب سے امیر بادشاہ تھے۔ ان کے آس پاس مومنتوں کی مالا ہیں، سونے کے تاج ہیں، اور شاندار محلات ہیں۔ وہ تمام کچھ رکھتے تھے، لیکن ان کے دل کی قسمت میں شادی نہیں تھی، اور وہ اکیلا اور اداس رہتے تھے۔
ایک دن، علی کی زمینوں پر بڑی برسات گر پڑی، اور وہ ساری رقبت کو آبرو دکھا دیں۔ ان کے کچھ محصولات کو برباد کر دیا گیا اور وہ پرانی زمینوں پر قرضے میں مبتلا ہوگئے۔
ایک دن، علی نے سوچا کہ وہ بادشاہ عبداللہ کے دربار جا کر مدد مانگیں۔ وہ دربار پہنچ کر اپنی مشکلات کا بیان کیا اور عبداللہ بادشاہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے قرضے کو معاف کر دیں۔
بادشاہ عبداللہ نے علی کی مسکراہٹ دیکھ کر ان کے قرضے کو معاف کر دیا اور ان کو اپنے ساتھ دربار کی عظمت میں شامل کر لیا۔ وہ دونوں دوست بن گئے اور ریاست کی ترقی کے لئے اپنی مل کر کوشیش کرنے لگے۔
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ احترام اور مدد کرنے کے لئے کوئی بھی کام چھوٹا نہیں ہوتا، اور دوستی اور ساتھیتا کے ساتھ ہم اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔


0 Comments